شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا

حیدر علی آتش

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا

حیدر علی آتش

MORE BYحیدر علی آتش

    شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا

    بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

    مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی

    سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

    وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی

    زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا

    نکالے تھے دو چاند اس نے مقابل

    وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا

    عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل

    فرح ناک تھی روح دل شادماں تھا

    مشاہد جمال پری کی تھی آنکھیں

    مکان وصال اک طلسمی مکاں تھا

    حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی

    کھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا

    کیا تھا اسے بوسہ بازی نے پیدا

    کمر کی طرح سے جو غائب دہاں تھا

    حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازی

    نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا

    بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے

    یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY