شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے

منیرؔ  شکوہ آبادی

شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے

منیرؔ  شکوہ آبادی

MORE BYمنیرؔ  شکوہ آبادی

    شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے

    روپ دیکھے بتان کمسن کے

    بوسے ہیں بے حساب ہر دن کے

    وعدے کیوں ٹالتے ہو گن گن کے

    ہیں وہ دیوانے جذب باطن کے

    اتری ہے شیشہ میں پری جن کے

    اہل دل دیکھتے ہیں آپ کا منہ

    آئنے میں صفائی باطن کے

    دل رواں ہو خیال یار کے ساتھ

    جائے مسکن بھی ساتھ ساکن کے

    لاغروں پر ہے ظلم جاں شکنی

    اے اجل توڑتی ہے کیوں تنکے

    رہے کلکتہ میں مخیر منیرؔ

    صدقے اپنے امام ضامن کے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY