شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

تاباں عبد الحی

شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

تاباں عبد الحی

MORE BY تاباں عبد الحی

    شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    دن کو پھروں میں داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    قبلہ نہ سرکشی کرو حسن پہ اپنے اس قدر

    تم سے بہت ہیں کج کلاہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    خانہ خراب عشق نے کھو کے مری حیا و شرم

    مجھ کو کیا ذلیل آہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    تو نے جو کچھ کہ کی جفا تا دم قتل میں سہی

    میری وفا کے ہیں گواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    تیری کمند زلف کے ملک بہ ملک ہیں اسیر

    بسمل خنجر نگاہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    کل تو نے کس کا خوں کیا مجھ کو بتا کہ آج ہے

    شور و فغاں و آہ آہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    مجھ کو بلا کے قتل کر یا تو مرے گناہ بخش

    ہوں میں کہاں تلک تباہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    سینہ فگار و جامہ چاک گریہ کناں و نعرہ زن

    پھرتے ہیں تیرے داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    تاباںؔ ترے فراق میں سر کو پٹکتا رات دن

    پھرتا ہے مثل مہر و ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

    مآخذ:

    Deewan-e-Taban Rekhta Website)
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY