شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے

مومن خاں مومن

شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے

    کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے

    پوچھا کسی پہ مرتے ہو اور دم نکل گیا

    ہم جان سے عناں بہ عنان صدا گئے

    پھیلی وہ بو جو ہم میں نہاں مثل غنچہ تھی

    جھونکے نسیم کے یہ نیا گل کھلا گئے

    اے آب اشک آتش عنصر ہے دیکھنا

    جی ہی گیا اگر نفس شعلہ زا گئے

    مجلس میں اس نے پان دیا اپنے ہاتھ سے

    اغیار سبز بخت تھے ہم زہر کھا گئے

    اٹھا نہ ضعف سے گل داغ جنوں کا بوجھ

    قاروں کی طرح ہم بھی زمیں میں سما گئے

    غیروں سے ہو وہ پردہ نشیں کیوں نہ بے حجاب

    دم ہائے بے اثر مرے پردہ اٹھا گئے

    تھی بد گمانی اب انہیں کیا عشق حور کی

    جو آ کے مرتے دم مجھے صورت دکھا گئے

    تابندہ و جوان تو بخت رقیب تھے

    ہم تیرہ روز کیوں غم ہجراں کو بھا گئے

    بیزار زندگانی کا جینا محال تھا

    وہ بھی ہماری نعش کو ٹھوکر لگا گئے

    واعظ کے ذکر مہر قیامت کو کیا کہوں

    عالم شب وصال کے آنکھوں میں چھا گئے

    جس وقت اس دیار سے اغیار بوالہوس

    بد خوئیوں سے یار کے ہو کر خفا گئے

    دنیا ہی سے گیا میں جوں ہی ناز سے کہا

    اب بھی گمان بد نہ گئے تیرے یا گئے

    اے مومنؔ آپ کب سے ہوئے بندۂ بتاں

    بارے ہمارے دین میں حضرت بھی آ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY