شہر میں لاکھ چراغاں ہو تو کیا ہوتا ہے

عارف اعظمی

شہر میں لاکھ چراغاں ہو تو کیا ہوتا ہے

عارف اعظمی

MORE BYعارف اعظمی

    شہر میں لاکھ چراغاں ہو تو کیا ہوتا ہے

    میرے گھر میں وہی مٹی کا دیا ہوتا ہے

    درد سینے میں مرے جب بھی مہک اٹھتا ہے

    زخم یادوں کا تری اور ہرا ہوتا ہے

    داستاں غم کی سناؤں یہ ضروری تو نہیں

    نفس مضمون تو چہرے پہ لکھا ہوتا ہے

    شدت غم سے نہ مٹ جائے کہیں میرا وجود

    روز اک غم مری چوکھٹ پہ کھڑا ہوتا ہے

    قتل کرتا ہے وہ ہر روز مجھے قسطوں میں

    میرے احساس میں جو درد چھپا ہوتا ہے

    تیری محفل سے نکل جاؤں یہی اچھا ہے

    یہاں ہر روز نیا حشر بپا ہوتا ہے

    غرق ہو جائے نہ کشتی کہیں ڈر سے عارفؔ

    ناخدا کہتا ہے منجدھار سے کیا ہوتا ہے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY