شہر اجڑے ہوئے خوابوں کے بسائے کیا کیا

مخمور سعیدی

شہر اجڑے ہوئے خوابوں کے بسائے کیا کیا

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    شہر اجڑے ہوئے خوابوں کے بسائے کیا کیا

    نیند میں ہم نے در و بام سجائے کیا کیا

    ہر قدم پر کسی منزل کا گزرتا تھا گماں

    راہ چلتے ہوئے منظر نظر آئے کیا کیا

    ہم کہ پھر تیری حقیقت پہ نظر کر نہ سکے

    زندگی تو نے ہمیں خواب دکھائے کیا کیا

    اک ستارہ کہ چمکتا ہے بہت دور کہیں

    ظلمت شب میں ہمیں پاس بلائے کیا کیا

    موسم گل میں ترا ہم سے جدا ہو جانا

    یاد آئے تو ہمیں خون رلائے کیا کیا

    کھو سے جاتے ہیں کہیں اس کا خیال آتے ہی

    ہم اسے بھول کے بھی بھول نہ پائے کیا کیا

    مندمل ہو گئے سب زخم پرانے تو مگر

    دل کی اک تازہ کسک ہم کو ستائے کیا کیا

    کیا مسافت ہے کہ حیران کیے دیتی ہے

    ہر گزرتا ہوا پل سامنے لائے کیا کیا

    آنسوؤں نے تری تصویر بھی دھندلی کر دی

    نقش پانی پہ مگر ہم نے بنائے کیا کیا

    لکھنے بیٹھیں جو کبھی عمر گزشتہ کا حساب

    ایک اک لمحہ ہمیں یاد دلائے کیا کیا

    کیا کہیں وہ بھی ہمیں راس نہ آئی مخمورؔ

    اک خوشی جس کے لئے رنج اٹھائے کیا کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY