شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے

راحت اندوری

شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے

راحت اندوری

MORE BYراحت اندوری

    شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے

    ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے

    میں اندھیروں سے بچا لایا تھا اپنے آپ کو

    میرا دکھ یہ ہے مرے پیچھے اجالے پڑ گئے

    جن زمینوں کے قبالے ہیں مرے پرکھوں کے نام

    ان زمینوں پر مرے جینے کے لالے پڑ گئے

    طاق میں بیٹھا ہوا بوڑھا کبوتر رو دیا

    جس میں ڈیرا تھا اسی مسجد میں تالے پڑ گئے

    کوئی وارث ہو تو آئے اور آ کر دیکھ لے

    ظل سبحانی کی اونچی چھت میں جالے پڑ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY