شمع سر دھنتی رہی محفل میں پروانوں کے ساتھ

عارف اعظمی

شمع سر دھنتی رہی محفل میں پروانوں کے ساتھ

عارف اعظمی

MORE BYعارف اعظمی

    شمع سر دھنتی رہی محفل میں پروانوں کے ساتھ

    آپ یاد آتے رہے کچھ تلخ عنوانوں کے ساتھ

    شام غم شام جدائی درد دل درد جگر

    سارے قصے ختم ہو جائیں گے دیوانوں کے ساتھ

    شیشہ و پیمانہ ہی زیبائش مے خانہ ہیں

    چھیڑ شیشے کی نہیں اچھی ہے پیمانوں کے ساتھ

    کیسا وہ دلچسپ منظر ہوگا اے جان عزیز

    وہ ہوں ساحل پہ کھڑے اور ہم ہوں طوفانوں کے ساتھ

    ہم نہ ہوں گے پر ہماری داستاں رہ جائے گی

    یاد ہم آیا کریں گے اپنے افسانوں کے ساتھ

    بادۂ عرفاں کا ساغر لے کے عارفؔ ہاتھ میں

    سوئے مے خانہ چلا ہے آج فرزانوں کے ساتھ

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY