رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں

عبد الحمید عدم

رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں

عبد الحمید عدم

MORE BYعبد الحمید عدم

    رقص کرتا ہوں جام پیتا ہوں

    عام ملتی ہے عام پیتا ہوں

    جھوٹ میں نے کبھی نہیں بولا

    زاہدان کرام پیتا ہوں

    رخ ہے پر نور تو تعجب کیا

    بادۂ لالہ فام پیتا ہوں

    اتنی تیزی بھی کیا پلانے میں

    آبگینے کو تھام پیتا ہوں

    کام بھی اک نماز ہے میری

    ختم کرتے ہی کام پیتا ہوں

    تیرے ہاتھوں سے کس کو ملتی ہے؟

    میرے ماہ تمام پیتا ہوں

    زندگی کا سفر ہی ایسا ہے

    دم بدم گام گام پیتا ہوں

    مجھ کو مے سے بڑی محبت ہے

    میں بصد احترام پیتا ہوں

    مے مرے ہونٹ چوم لیتی ہے

    لے کے جب تیرا نام پیتا ہوں

    شیخ و مفتی عدمؔ جب آ جائیں

    بن کے ان کا امام پیتا ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Adm (Pg. 408)
    • Author : Khwaja Mohammad Zakariya
    • مطبع : Alhamd Publications, Lahore (2009)
    • اشاعت : 2009

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے