شرمندہ ہم جنوں سے ہیں ایک ایک تار کے

تابش دہلوی

شرمندہ ہم جنوں سے ہیں ایک ایک تار کے

تابش دہلوی

MORE BY تابش دہلوی

    شرمندہ ہم جنوں سے ہیں ایک ایک تار کے

    کیا کیجیئے کہ دن ہیں ابھی تک بہار کے

    اے عمر شوق دیکھیے ملتا ہے کیا جواب

    ہم نے کسی کا نام لیا ہے پکار کے

    سرگشتۂ الم ہو کہ شوریدہ سر کوئی

    احساں ہیں اہل شوق پہ دیوار یار کے

    اللہ رے انتظار بہاراں کی لذتیں

    گزری ہے یوں خزاں بھی کہ دن ہوں بہار کے

    تابشؔ سکون درد سے تسکین مرگ تک

    دل ہو اگر تو لاکھ ہیں پہلو قرار کے

    مآخذ:

    • کتاب : Naya daur (Pg. 250)
    • Author : Qamar Sultana

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY