شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے

غلام محمد قاصر

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے

غلام محمد قاصر

MORE BYغلام محمد قاصر

    شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے

    گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے

    خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھے

    شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے

    سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کے ریت کے یارانے

    لو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں کے ٹیلے تھے

    تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں پہنچا

    رات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکیلے تھے

    سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیے

    آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے

    تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتا

    ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

    کون غلام محمد قاصرؔ بے چارے سے کرتا بات

    یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY