شوق کی حد کو ابھی پار کیا جانا ہے

راجیش ریڈی

شوق کی حد کو ابھی پار کیا جانا ہے

راجیش ریڈی

MORE BYراجیش ریڈی

    شوق کی حد کو ابھی پار کیا جانا ہے

    آئینے میں ترا دیدار کیا جانا ہے

    ہم تصور میں بنا بیٹھے ہیں اک چارہ گر

    خود کو جس کے لئے بیمار کیا جانا ہے

    دل تو دنیا سے نکلنے پہ ہے آمادہ مگر

    اک ذرا ذہن کو تیار کیا جانا ہے

    توڑ کے رکھ دئے باقی تو انا نے سارے

    بت بس اک اپنا ہی مسمار کیا جانا ہے

    دیکھنی ہے کبھی آئینے میں اپنی صورت

    اک مخالف کو طرفدار کیا جانا ہے

    مسئلہ یہ نہیں کہ عشق ہوا ہے ہم کو

    مسئلہ یہ ہے کہ اظہار کیا جانا ہے

    خوابوں اور خواہشوں کی باتوں میں آ کر کب تک

    خود کو رسوا سر بازار کیا جانا ہے

    ایک ہی بار میں اکتا سے گئے ہو جس سے

    یہ تماشا تو کئی بار کیا جانا ہے

    کون پڑھتا ہے یہاں کھول کے اب دل کی کتاب

    اب تو چہرے کو ہی اخبار کیا جانا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY