شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

حبیب جالب

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

حبیب جالب

MORE BYحبیب جالب

    شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

    کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں

    لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری

    ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

    دہر میں آہ بے کساں کے سوا

    اور ہم کب کسی سے ڈرتے ہیں

    ہم کو غیروں سے ڈر نہیں لگتا

    اپنے احباب ہی سے ڈرتے ہیں

    داور حشر بخش دے شاید

    ہاں مگر مولوی سے ڈرتے ہیں

    روٹھتا ہے تو روٹھ جائے جہاں

    ان کی ہم بے رخی سے ڈرتے ہیں

    ہر قدم پر ہے محتسب جالبؔ

    اب تو ہم چاندنی سے ڈرتے ہیں

    RECITATIONS

    حبیب جالب

    حبیب جالب

    حبیب جالب

    شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں حبیب جالب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY