شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا

ابو الحسنات حقی

شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا

ابو الحسنات حقی

MORE BY ابو الحسنات حقی

    شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا

    کہ اس کا کوئی نہیں تھا مرا ٹھکانہ بھی کیا

    یہ سچ ہے اس سے بچھڑ کر مجھے زمانہ ہوا

    مگر وہ لوٹنا چاہے تو پھر زمانہ بھی کیا

    میں ہر طرف ہوں وہ آئے شکار کر لے مجھے

    جہاں ہدف ہی ہدف ہو تو پھر نشانہ بھی کیا

    وہ چاہتا ہے سلیقے سے بات کرنے لگوں

    جو اتنی سچ ہو بنے گی بھلا فسانہ بھی کیا

    اسی روش پر چلو زندگی گزار آئیں

    سوائے اس کے کریں حرف کو بہانہ بھی کیا

    جو لفظ بھولنا چاہوں وہ یاد آتا ہے

    مری سزا کے لیے اور تازیانہ بھی کیا

    اب اس گلی میں ہے کیا انتظام کے لائق

    تو پھر رسالۂ دل کو کریں روانہ بھی کیا

    فراز ماہ بھی پہنائیاں بھی روشن ہیں

    چراغ جلتا ہے کوئی تہہ خزانہ بھی کیا

    جہاں بھی جاؤں وہی انتظار کی صورت

    وہ مجھ کو چاہے مگر اتنا والہانہ بھی کیا

    مرا وجود نہیں خانقاہ سے باہر

    مگر فشار غزل میں یہ صوفیانہ بھی کیا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ابو الحسنات حقی

    ابو الحسنات حقی

    RECITATIONS

    ابو الحسنات حقی

    ابو الحسنات حقی

    ابو الحسنات حقی

    شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا ابو الحسنات حقی

    مآخذ:

    • کتاب : imkaan-e-roz-o-shab (Pg. 31)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY