شکوہ نہ ہو تسلسل آہ و فغاں رہے

تجمل حسین اختر

شکوہ نہ ہو تسلسل آہ و فغاں رہے

تجمل حسین اختر

MORE BYتجمل حسین اختر

    شکوہ نہ ہو تسلسل آہ و فغاں رہے

    وہ چاہتے ہیں آگ نہ بھڑکے دھواں رہے

    لیل و نہار پہلے جو تھے اب کہاں رہے

    ہاں یاد ہے کہ تم بھی کبھی مہرباں رہے

    قربت میں آ پڑے تھے قیامت کے فاصلے

    تنہا تھے ہم تو قول و قسم درمیاں رہے

    ہر گام پر ہیں دار و رسن کی سہولتیں

    اب جسم و جاں لٹاؤ کہ نام و نشاں رہے

    یوں مسکرا کے ترک تعلق کی گفتگو

    ایسا ستم کہ جس پہ کرم کا گماں رہے

    راہوں کے پیچ و خم میں مسافر بکھر گئے

    اب کارواں قیام کرے یا رواں رہے

    خوشبوئے پیرہن میں بسا ہے رواں رواں

    وہ ہم سے لاکھ دور رہے جزو جاں رہے

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 391)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY