شعلہ ادھر ادھر کبھی سایا یہیں کہیں

راجیندر منچندا بانی

شعلہ ادھر ادھر کبھی سایا یہیں کہیں

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    شعلہ ادھر ادھر کبھی سایا یہیں کہیں

    ہوگا وہ برق جسم سبک پا یہیں کہیں

    کن پانیوں کا زور اسے کاٹ لے گیا

    دیکھا تھا ہم نے ایک جزیرہ یہیں کہیں

    منسوب جس سے ہو نہ سکا کوئی حادثہ

    گم ہو کے رہ گیا ہے وہ لمحہ یہیں کہیں

    آوارگی کا ڈر نہ کوئی ڈوبنے کا خوف

    صحرا ہی آس پاس نہ دریا یہیں کہیں

    وہ چاہتا یہ ہوگا کہ میں ہی اسے بلاؤں

    میری طرح وہ پھرتا ہے تنہا یہیں کہیں

    بانیؔ ذرا سنبھل کے محبت کا موڑ کاٹ

    اک حادثہ بھی تاک میں ہوگا یہیں کہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 53)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY