شہرتیں اوروں نے پائیں نام اوروں کو ملا

حلیم صابر

شہرتیں اوروں نے پائیں نام اوروں کو ملا

حلیم صابر

MORE BYحلیم صابر

    شہرتیں اوروں نے پائیں نام اوروں کو ملا

    کام تو ہم نے کیا انعام اوروں کو ملا

    فصل جو میں نے اگائی کر کے محنت رات دن

    جب بکی وہ فصل میری دام اوروں کو ملا

    میرے پرکھوں نے لگائے پیڑ جو میرے لئے

    ان کی ٹھنڈی چھاؤں میں آرام اوروں کو ملا

    میرے حصے میں سلگتی دوپہر کی دھوپ تھی

    زندگی کا لطف صبح و شام اوروں کو ملا

    تھی ہماری حیثیت اس شہر میں معمار کی

    ہم نے چھت تعمیر کی آرام اوروں کو ملا

    ہم بھی پیاسے تھے مگر منہ دیکھتے ہی رہ گئے

    دست ساقی سے چھلکتا جام اوروں کو ملا

    مجھ کو صابرؔ ہر قدم پر راہ میں کانٹے ملے

    پھولوں سے آراستہ ہر گام اوروں کو ملا

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY