شور احساس میں ایسا ہے کہ محشر کہئے

اسرار اکبر آبادی

شور احساس میں ایسا ہے کہ محشر کہئے

اسرار اکبر آبادی

MORE BYاسرار اکبر آبادی

    شور احساس میں ایسا ہے کہ محشر کہئے

    ہر نئے شہر کو چیخوں کا سمندر کہئے

    دن کا صحرا یہ سیہ دھوپ کے امنڈے لشکر

    دل کو تپتے ہوئے نیزے پہ گل تر کہئے

    وہ ہیں آکاش کا منظر کئی رنگوں کی طرح

    بند شیشوں میں مجھے کرب کا دفتر کہئے

    تم سہی پھر بھی تو مرجھا گئے جھیلوں میں کنول

    ان ہواؤں کو دبی آگ کی چادر کہئے

    رات دن برسے ہیں پھولوں میں مگر پیاس رہی

    کیسے بادل میں انہیں زہر کی گاگر کہئے

    درد بے درد ہے بے حس ہیں حسوں کے پیکر

    دل کی آواز ہے شیشوں کو بھی پتھر کہئے

    فکر و غم سب کے مکانوں میں بسے ہیں یکساں

    شیش محلوں کو مرے گھر کے برابر کہئے

    وہ جو آ جائیں محبت کا اجالا بن کر

    چاند کو رنگ بھری رات کا جھومر کہئے

    آسماں پر ہے یہ اسرارؔ زمیں پر ہے کبھی

    دل کو آفاق میں اڑتا ہوا شہ پر کہئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY