شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے

ذوالفقار عادل

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے

    اس منظر سے دیکھو بارش ہونے والی ہے

    سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے

    اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے

    بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ

    موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

    اپنی مرضی سے سب چیزیں گھومتی پھرتی رہتی ہیں

    بے ترتیبی نے اس گھر میں اتنی جگہ بنا لی ہے

    دیر سے قفل پڑا دروازہ اک دیوار ہی لگتا تھا

    اس پر ایک کھلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے

    ہر حسرت پر ایک گرہ سی پڑ جاتی تھی سینے میں

    رفتہ رفتہ سب نے مل کر دل سی شکل بنا لی ہے

    اوپر سب کچھ جل جائے گا کون مدد کو آئے گا

    جس منزل پر آگ لگی ہے سب سے نیچے والی ہے

    اک کمرا سایوں سے بھرا ہے اک کمرا آوازوں سے

    آنگن میں کچھ خواب پڑے ہیں ویسے یہ گھر خالی ہے

    پیروں کو تو دشت بھی کم ہے سر کو دشت نوردی بھی

    عادلؔ ہم سے چادر جتنی پھیل سکی پھیلا لی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY