شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا

احتشام الحق صدیقی

شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا

احتشام الحق صدیقی

MORE BYاحتشام الحق صدیقی

    شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا

    کہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دینا

    حدود میں اپنی رہ کے شاید بچا سکوں میں وجود اپنا

    میں ایک قطرہ ہوں مجھ کو دریا کے راستے پر نہ ڈال دینا

    اگر خلا میں پہنچ گیا تو پلٹ کے واپس نہ آ سکوں گا

    تم اپنی حد کشش سے اونچا نہ مجھ کو یارو اچھال دینا

    وہ صورتاً آدمی ہے لیکن مزاج سے مار آستیں ہے

    اگر اسے آستیں میں رکھنا تو زہر پہلے نکال دینا

    نہ جانے کھڑکی سے جھانکتی یہ کرن کسے راستہ دکھا دے

    تم اپنے کمرے کی کھڑکیوں پر دبیز پردے نہ ڈال دینا

    سکوت شب توڑنے کی خاطر بھی کوئی ہنگامہ ساتھ رکھنا

    نہ شام ہوتے ہی ہر تمنا کو قید خانے میں ڈال دینا

    یہ ہم نے مانا کہ تم میں سورج کی سی تپش ہے مگر یہ سن لو

    کہ ہم سمندر ہیں اور آساں نہیں سمندر ابال دینا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY