سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھا

احتشام حسن

سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھا

احتشام حسن

MORE BYاحتشام حسن

    سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھا

    کمرے کم ہوتے تھے اور دالان کشادہ ہوتا تھا

    دیکھ کے وہ گھر گاؤں والے سوگ منایا کرتے تھے

    صحن میں جو دیوار اٹھا کر آدھا آدھا ہوتا تھا

    مستقبل اور حال کے آزاروں کے ساتھ نمٹنے کو

    چوپالوں میں ماضی کی یادوں کا اعادہ ہوتا تھا

    دکھ چاہے جس کا بھی ہو وہ مل کر بانٹا جاتا تھا

    غم تو آج کے جیسے تھے احساس زیادہ ہوتا تھا

    لڑکے بالے میلوں پیدل پڑھنے جایا کرتے تھے

    پاس ہے جو اسکول وہ پہلے دور افتادہ ہوتا تھا

    تھک جاتا کوئی تو مل کر بوجھ کو بانٹا کرتے تھے

    دوست نے دوست کا بستہ اپنے اوپر لادا ہوتا تھا

    اتنی شرم تو ہوتی تھی آنکھوں میں پہلے وقتوں میں

    گلی میں سر نیچا رکھتا جو باہر دادا ہوتا تھا

    سوچ سمجھ کر ہوتے تھے تب ساتھ نبھانے کے وعدے

    لیکن جو کر لیتے تھے وہ وعدہ پورا ہوتا تھا

    خط میں دل اور تیر بنا کر منت کرنی پڑتی تھی

    یار بہت مشکل سے ملنے پر آمادہ ہوتا تھا

    دیکھ حسنؔ کس منصب سے لے آیا عشق فقیری تک

    جس سے پوچھا اپنے دور میں وہ شہزادہ ہوتا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY