سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

جون ایلیا

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    سینہ دہک رہا ہو تو کیا چپ رہے کوئی

    کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

    ثابت ہوا سکون دل و جاں کہیں نہیں

    رشتوں میں ڈھونڈھتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی

    ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں

    یہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی

    دیوار جانتا تھا جسے میں وہ دھول تھی

    اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی

    میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب

    میرے خلاف زہر اگلتا پھرے کوئی

    اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے

    یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی

    ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں

    آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

    اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر

    کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    مآخذ:

    • Book : gumaan (Pg. 130)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY