سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے

کلیم عاجز

سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے

کلیم عاجز

MORE BY کلیم عاجز

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے

    اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

    شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاں

    آئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے

    خلوت میں روشنی ہے نہ محفل میں روشنی

    اہل وفا چراغ وفا لے کہاں گئے

    بت خانے میں بھی ڈھیر ہیں ٹکڑے حرم میں بھی

    جام و سبو کہاں تھے اچھالے کہاں گئے

    آنکھوں سے آنسوؤں کو ملی خاک میں جگہ

    پالے کہاں گئے تھے نکالے کہاں گئے

    برباد روزگار ہمارا ہی نام ہے

    آئیں تماشا دیکھنے والے کہاں گئے

    چھپتے گئے دلوں میں وہ بن کر غزل کے بول

    میں ڈھونڈھتا رہا مرے نالے کہاں گئے

    اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ

    گرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے

    مآخذ:

    • کتاب : Jab Fasl-e-baharn aai thi (Pg. 221)
    • Author : padm Shri Dr. Kaleem Ahmed Aajiz
    • مطبع : Sunrise Plastic Works, Patna (1990)
    • اشاعت : 1990

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY