سینے میں کسک بن کے اترنے کے لیے ہے

مخمور سعیدی

سینے میں کسک بن کے اترنے کے لیے ہے

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    سینے میں کسک بن کے اترنے کے لیے ہے

    ہر لمحۂ حاصل کہ گزرنے کے لیے ہے

    سنورے گا نہ اس شام سر آئینہ کوئی

    یہ شام تو تیرے ہی سنورنے کے لیے ہے

    ناموس گلستاں کا تقاضا سہی کچھ بھی

    خوشبو تو مگر قید نہ کرنے کے لیے ہے

    تم ریت میں چاہو تو اسے کھے نہ سکوگے

    کشتی جو سمندر میں اترنے کے لیے ہے

    کچھ اور نہیں دل کی تمناؤں کا حاصل

    اس شاخ کا ہر پھول بکھرنے کے لیے ہے

    سوئی ہوئی ہر ٹیس کبھی جاگ اٹھے گی

    جو زخم ہے اس دل میں نہ بھرنے کے لیے ہے

    تصویر غم دل نہ کبھی ماند پڑے گی

    مٹتا ہوا ہر نقش ابھرنے کے لیے ہے

    یہ قافلۂ عمر رواں راہ طلب پر

    دو چار قدم چل کے ٹھہرنے کے لیے ہے

    مخمورؔ یہ دنیا وہ رسد گاہ اجل ہے

    زندہ ہے یہاں کوئی تو مرنے کے لیے ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سینے میں کسک بن کے اترنے کے لیے ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY