سکندر کے سفر کی بات نکلے

پروین کیف

سکندر کے سفر کی بات نکلے

پروین کیف

MORE BYپروین کیف

    سکندر کے سفر کی بات نکلے

    کفن میں سے ہوں خالی ہاتھ نکلے

    وہ کل کی فیس بک وہ کیفؔ و شعریؔ

    وہ دیکھو چاند سورج ساتھ نکلے

    میں نکلوں چاندی اور سونا پہن کر

    مگر مٹی مری اوقات نکلے

    توقع لے کے وہ آیا تھا لیکن

    اسی جیسے میرے حالات نکلے

    جہاں ارتھی اٹھائی جا رہی ہو

    اسی کوچے سے کیوں بارات نکلے

    ستاروں کا شرف کیا وہ تو پروینؔ

    ہماری ذات کے ذرات نکلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY