سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی (ردیف .. ن)

مجروح سلطانپوری

سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی (ردیف .. ن)

مجروح سلطانپوری

MORE BYمجروح سلطانپوری

    سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی

    پیام زیرلبی کو صلائے عام کریں

    غلام رہ چکے توڑیں یہ بند رسوائی

    کچھ اپنے بازوئے محنت کا احترام کریں

    زمیں کو مل کے سنواریں مثال روئے نگار

    رخ نگار سے روشن چراغ بام کریں

    پھر اٹھ کے گرم کریں کاروبار زلف و جنوں

    پھر اپنے ساتھ اسے بھی اسیر دام کریں

    مری نگاہ میں ہے ارض ماسکو مجروحؔ

    وہ سرزمیں کہ ستارے جسے سلام کریں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی (ردیف .. ن) نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY