سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کا

یگانہ چنگیزی

سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کا

یگانہ چنگیزی

MORE BYیگانہ چنگیزی

    دلچسپ معلومات

    (1915ء)

    سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کا

    شمع گل ہو گئی دل بجھ گیا پروانے کا

    عشق سے دل کو ملا آئنہ خانے کا شرف

    جگمگا اٹھا کنول اپنے سیہ خانے کا

    خلوت ناز کجا اور کجا اہل ہوس

    زور کیا چل سکے فانوس سے پروانے کا

    لاش کم بخت کی کعبے میں کوئی پھکوا دے

    کوچۂ یار میں کیوں ڈھیر ہو پروانے کا

    وائے حسرت کہ تعلق نہ ہوا دل کو کہیں

    نہ تو کعبے کا ہوا میں نہ صنم خانے کا

    تشنہ لب ساتھ چلے شوق میں سائے کی طرح

    رخ کیا ابر بہاری نے جو مے خانے کا

    واہ کس ناز سے آتا ہے ترا دور شباب

    جس طرح دور چلے بزم میں پیمانے کا

    اہل دل مست ہوئے پھیل گئی بوئے وفا

    پیرہن چاک ہوا جب ترے دیوانے کا

    سر شوریدہ کجا عشق کی بیگار کجا

    مگر اللہ رے دل آپ کے دیوانے کا

    دیکھ کر آئنے میں چاک گریباں کی بہار

    اور بگڑا ہے مزاج آپ کے دیوانے کا

    کیا عجب ہے جو حسینوں کی نظر لگ جائے

    خون ہلکا ہے بہت آپ کے دیوانے کا

    آپ اب شمع سحر بڑھ کے گلے ملتی ہے

    بخت جاگا ہے بڑی دیر میں پروانے کا

    دل بے حوصلہ تکتا ہے خریدار کی راہ

    کوئی گاہک نہیں ٹوٹے ہوئے پیمانے کا

    بزم میں صبح ہوئی چھا گیا اک سناٹا

    سلسلہ چھڑ گیا جب آپ کے افسانے کا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Yagana (Pg. 242)
    • Author : Meerza Yagana Changezi Lukhnawi
    • مطبع : Farib Book Depot (P) Ltd (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے