سلسلہ زخم زخم جاری ہے

اختر نظمی

سلسلہ زخم زخم جاری ہے

اختر نظمی

MORE BYاختر نظمی

    سلسلہ زخم زخم جاری ہے

    یہ زمیں دور تک ہماری ہے

    اس زمیں سے عجب تعلق ہے

    ذرے ذرے سے رشتہ داری ہے

    میں بہت کم کسی سے ملتا ہوں

    جس سے یاری ہے اس سے یاری ہے

    ناؤ کاغذ کی چھوڑ دی میں نے

    اب سمندر کی ذمہ داری ہے

    بیچ ڈالا ہے دن کا ہر لمحہ

    رات تھوڑی بہت ہماری ہے

    ریت کے گھر تو بہہ گئے لیکن

    بارشوں کا خلوص جاری ہے

    کوئی نظمیؔ گزار کر دیکھے

    میں نے جو زندگی گزاری ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Hindustani Gazle.n

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY