صرف باتوں سے بہل جانے کا قائل تو نہیں

رحمان جامی

صرف باتوں سے بہل جانے کا قائل تو نہیں

رحمان جامی

MORE BYرحمان جامی

    صرف باتوں سے بہل جانے کا قائل تو نہیں

    دل مرا سادہ ہے احساس سے غافل تو نہیں

    وار کرتا ہے نظر سے یہی قاتل تو نہیں

    چوٹ کھا کر جو تڑپتا ہے مرا دل تو نہیں

    شور و غل بڑھتا ہی جاتا ہے مرے کانوں میں

    دل میں جو ہے وہی طوفاں لب ساحل تو نہیں

    قافلے والوں نے بستر جہاں اپنے کھولے

    سچ تو یہ ہے وہ مرے نام کی منزل تو نہیں

    سامنا ہو تو پتہ بھی چلے پھر کون ہے کیا

    میں نے مانا کہ کوئی مرے مقابل تو نہیں

    محفلیں اور بھی ہیں حسن و ادا کی لیکن

    تیری محفل کی طرح اب کوئی محفل تو نہیں

    ہم تو تیار ہیں اک حشر اٹھانے کے لئے

    آپ خود ہی کسی طوفان سے غافل تو نہیں

    دور ہی سے نظر آ جاتا ہے جامیؔ تیرا

    بھیڑ میں رہ کے بھی وہ بھیڑ میں شامل تو نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY