صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے

کیف بھوپالی

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے

کیف بھوپالی

MORE BY کیف بھوپالی

    صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے

    تیرا دیوانہ تری گلیوں میں دیکھا جائے ہے

    آپ کس کس کو بھلا سولی چڑھاتے جائیں گے

    اب تو سارا شہر ہی منصور بنتا جائے ہے

    دلبروں کے بھیس میں پھرتے ہیں چوروں کے گروہ

    جاگتے رہیو کہ ان راتوں میں لوٹا جائے ہے

    تیرا مے خانہ ہے یا خیرات خانہ ساقیا

    اس طرح ملتا ہے بادہ جیسے بخشا جائے ہے

    مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھو

    اپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے

    موت آئی اور تصور آپ کا رخصت ہوا

    جیسے منزل تک کوئی رہ رو کو پہونچا جائے ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY