ستم کامیاب نے مارا

جگر مراد آبادی

ستم کامیاب نے مارا

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    ستم کامیاب نے مارا

    کرم لا جواب نے مارا

    خود ہوئی گم ہمیں بھی کھو بیٹھی

    نگہ بازیاب نے مارا

    زندگی تھی حجاب کے دم تک

    برہمئ حجاب نے مارا

    عشق کے ہر سکون آخر کو

    حسن کے اضطراب نے مارا

    خود نظر بن گئی حجاب نظر

    ہائے اس بے حجاب نے مارا

    میں ترا عکس ہوں کہ تو میرا

    اس سوال و جواب نے مارا

    کوئی پوچھے کہ رہ کے پہلو میں

    تیر کیا اضطراب نے مارا

    بچ رہا جو تری تجلی سے

    اس کو تیرے حجاب نے مارا

    اب نظر کو کہیں قرار نہیں

    کاوش انتخاب نے مارا

    سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے

    اور جگرؔ کو شراب نے مارا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY