Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ستم کو لطف جفا کو وفا بنا نہ سکے

نہال رضوی لکھنوی

ستم کو لطف جفا کو وفا بنا نہ سکے

نہال رضوی لکھنوی

MORE BYنہال رضوی لکھنوی

    ستم کو لطف جفا کو وفا بنا نہ سکے

    تمہیں نے آگ لگائی تمہیں بجھا نہ سکے

    ہم ان کو ترک تعلق پہ بھی بھلا نہ سکے

    گرہ ہوا میں لگائی مگر لگا نہ سکے

    بڑے مزے کی ہے دونوں طرف کی مجبوری

    کوئی بلا نہ سکے کوئی پاس آ نہ سکے

    عجب روش ہے عجب انتظام گلشن ہے

    کوئی تو خوب ہنسے کوئی مسکرا نہ سکے

    شراب کیف شراب خوشی شراب سکوں

    نہ جانے پی نہ سکے ہم کہ وہ پلا نہ سکے

    ہر اضطراب کو ہم نے سکوں سے بدلا ہے

    وہ اور ہوں گے جو طوفاں کے ناز اٹھا نہ سکے

    حیات شبنم و عمر شمیم گل معلوم

    وہ نقش بن کہ زمانہ جسے مٹا نہ سکے

    بہت قریب سے دیکھا ہے ہم نے دنیا کو

    یہ پھول وہ ہے کسی کے جو کام آ نہ سکے

    مری پکار نے بیدار کر دیا ان کو

    تغیرات زمانہ جنہیں جگا نہ سکے

    میں ہر زباں کا بہی خواہ ہوں نہالؔ مگر

    یہ چاہتا ہوں کہ اردو پہ آنچ آ نہ سکے

    مأخذ:

    شہر غزل (Pg. 68)

    • مصنف: نہال رضوی لکھنوی
      • ناشر: نظامی پریس، لکھنؤ
      • سن اشاعت: 1982

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے