سیاہ دشت کی جانب سفر دوبارہ کیا

رفیق راز

سیاہ دشت کی جانب سفر دوبارہ کیا

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    سیاہ دشت کی جانب سفر دوبارہ کیا

    نہ جانے قاف کی پریوں نے کیا اشارہ کیا

    نہ تیز و تند ہوا سے ملی نجات مجھے

    نہ میں نے سلطنت خاک سے کنارہ کیا

    فلک کی سمت نگاہیں اٹھانے سے پہلے

    زمیں کے سارے مناظر کو پارہ پارہ کیا

    سیاہ بن میں چمکتا ہوں مثل دیدۂ شیر

    یہ کس نے ذرۂ آوارہ کو ستارہ کیا

    خمار خواب اترنے میں تھوڑی دیر لگی

    پھر اس کے بعد بڑے شوق سے نظارہ کیا

    کسی نے موند کے آنکھوں کو پھر سے کھول دیا

    یہ کس نے آپ کو دنیا پہ آشکارا کیا

    ہمارے ہونے کے منظر کی بھی کرامت دیکھ

    تمہاری چشم کو فوارۂ شرارہ کیا

    نشے میں نقشہ ریاست ہی کا بگاڑ دیا

    یہ کیا کیا کہ سمرقند کو بخارا کیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    سیاہ دشت کی جانب سفر دوبارہ کیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے