سیاہ رات کے دریا کو پار کرتے چلو

سوربھ شیکھر

سیاہ رات کے دریا کو پار کرتے چلو

سوربھ شیکھر

MORE BYسوربھ شیکھر

    سیاہ رات کے دریا کو پار کرتے چلو

    بس ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے چلو

    افق کے نور سے گر مطمئن نہ ہو پاؤ

    نسیم صبح کا تو اعتبار کرتے چلو

    بٹور لاؤ ذرا خود کو چار سمتوں سے

    صفیں بنا کے بڑھو اب قطار کرتے چلو

    قیام طائرو کچھ دیر میرے آنگن میں

    تمام گھر کو مرے خوش گوار کرتے چلو

    تمہاری بات سے مجھ کو تو اتفاق نہیں

    مخالفوں میں مجھے بھی شمار کرتے چلو

    اصول ایک ہی ہوتا ہے صرف جنگل کا

    شکار بنتے رہو یا شکار کرتے چلو

    جو سلطنت ہے تمہاری تو لازمی ہے کیا

    چمن تمام کو تم ریگزار کرتے چلو

    خلوص خرچ کرو ہاتھ کھول کر سوربھؔ

    لٹاؤ پیار دل و جاں نثار کرتے چلو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY