صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے

فضیل جعفری

صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    صبح تک ہم رات کا زاد سفر ہو جائیں گے

    تجھ سے ہم آغوش ہو کر منتشر ہو جائیں گے

    دھوپ صحرا تن برہنہ خواہشیں یادوں کے کھیت

    شام آتے ہی غبار رہ گزار ہو جائیں گے

    دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئے

    یہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے

    شورش دنیا کو آہستہ روی کا حکم ہو

    نذر خیر و شر ترے شوریدہ سر ہو جائیں گے

    یہ جو ہیں دو چار شرفائے اودھ اختر شناس

    کچھ دنوں میں یہ بھی اوراق دگر ہو جائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY