سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی

نظم طبا طبائی

سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی

    زاہد عیار کیوں کیسی کہی

    کٹ گئے اغیار کیوں کیسی کہی

    چھا گئی ہر بار کیوں کیسی کہی

    ہیں یہ سب اقرار جھوٹے یا نہیں

    کیجئے اقرار کیوں کیسی کہی

    روٹھنے سے آپ کا مطلب یہ ہے

    اس کو آئے پیار کیوں کیسی کہی

    کہہ دیا میں نے سحر ہے جھوٹ موٹ

    ہو گئے بیدار کیوں کیسی کہی

    ایک تو کہتے ہیں صدہا بھپتیاں

    اور پھر اصرار کیوں کیسی کہی

    ناصحا یہ بحث دیوانوں کے ساتھ

    عقل کی ہے مار کیوں کیسی کہی

    یا خفا تھے یا ذرا سی بات پر

    ہو گئی بوچھار کیوں کیسی کہی

    مجھ سے بیعت کر لے تو بھی واعظا

    ہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی

    سرمہ دے کر دل کے لینے کا ہے قصد

    آنکھ تو کر چار کیوں کیسی کہی

    جان دے دے چل کے در پر یار کے

    او دل بیمار کیوں کیسی کہی

    کیا ہی بگڑے ہو پتے کی بات پر

    ہو گئے بیزار کیوں کیسی کہی

    اب تو حیدرؔ اور ہی کچھ رنگ ہیں

    مانتا ہوں یار کیوں کیسی کہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY