سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں

تاباں عبد الحی

سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں

تاباں عبد الحی

MORE BYتاباں عبد الحی

    سن فصل گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں

    کیا بلبلوں نے دیکھو دھومیں مچائیاں ہیں

    بیمار ہو زمیں سے اٹھتے نہیں عصا بن

    نرگس کو تم نے شاید آنکھیں دکھائیاں ہیں

    دیکھ اس کو آئنہ بھی حیران ہو گیا ہے

    چہرے پہ جان تیرے ایسی صفائیاں ہیں

    خورشید اس کو کہئے تو جان ہے وہ پیلا

    گر مہ کہوں ترا منہ تو اس پہ جھائیاں ہیں

    یوں گرم یار ہونا پھر بات بھی نہ کہنا

    کیا بے مروتی ہے کیا بے وفائیاں ہیں

    جھمکی دکھا جھجھک کر دل لے کے بھاگ جانا

    کیا اچپلائیاں ہیں کیا چنچلائیاں ہیں

    قسمت میں کیا ہے دیکھیں جیتے بچیں کہ مر جائیں

    قاتل سے اب تو ہم نے آنکھیں لڑائیاں ہیں

    دل عاشقوں کا لے کر پھر یار نہیں یہ دلبر

    ان بے مروتوں کی کیا آشنائیاں ہیں

    پھر مہرباں ہوا ہے تاباںؔ مرا ستم گر

    باتیں تری کسی نے شاید سنائیاں ہیں

    مأخذ :
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY