سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے

کیفی اعظمی

سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے

کیفی اعظمی

MORE BYکیفی اعظمی

    سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے

    سب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے

    یہاں سے جلد گزر جاؤ قافلے والو

    ہیں میری پیاس کے پھونکے ہوئے یہ ویرانے

    مرے جنون پرستش سے تنگ آ گئے لوگ

    سنا ہے بند کیے جا رہے ہیں بت خانے

    جہاں سے پچھلے پہر کوئی تشنہ کام اٹھا

    وہیں پہ توڑے ہیں یاروں نے آج پیمانے

    بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا

    مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے

    ہوا ہے حکم کہ کیفیؔ کو سنگسار کرو

    مسیح بیٹھے ہیں چھپ کے کہاں خدا جانے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ریتا گانگولی

    ریتا گانگولی

    کیفی اعظمی

    کیفی اعظمی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY