سنتے رہتے ہیں فقط کچھ وہ نہیں کہہ سکتے

صائمہ اسما

سنتے رہتے ہیں فقط کچھ وہ نہیں کہہ سکتے

صائمہ اسما

MORE BY صائمہ اسما

    سنتے رہتے ہیں فقط کچھ وہ نہیں کہہ سکتے

    آئنوں سے جو کہیں ان کو نہیں کہہ سکتے

    ان کے لہجے میں کوئی اور ہی بولا ہوگا

    مجھے لگتا ہے کہ ایسا وہ نہیں کہہ سکتے

    شہر میں ایک دوانے سے کہلواتے ہیں

    اہل پندار مرے خود جو نہیں کہہ سکتے

    یوں تو مل جانے کو دم ساز کئی مل جائیں

    دل کی باتیں ہیں ہر اک سے تو نہیں کہہ سکتے

    جانے پھر منہ میں زباں رکھنے کا مصرف کیا ہے

    جو کہا چاہتے ہیں وہ تو نہیں کہہ سکتے

    مآخذ:

    • کتاب : Gul-e-Dupahar (Pg. 137)
    • Author : Saima Asma
    • مطبع : Idarah Batool, Sayyed Palaza, Firozpur Road, Lahore (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY