سرخ چمن زنجیر کیے ہیں سبز سمندر لایا ہوں

ساقی فاروقی

سرخ چمن زنجیر کیے ہیں سبز سمندر لایا ہوں

ساقی فاروقی

MORE BYساقی فاروقی

    دلچسپ معلومات

    ساقی فاروقی نے خود کہا ہے کہ یہ غزل میری شاعری کا مینی فیسٹو ہے

    سرخ چمن زنجیر کیے ہیں سبز سمندر لایا ہوں

    میں تو دنیا بھر کے منظر آنکھوں میں بھر لایا ہوں

    جنگل تھے اور لوگ پرانے سوگ پہن کر سوتے تھے

    ایک انوکھے خواب سے اپنی جان چھڑا کر لایا ہوں

    میں اتنا محتاج نہیں ہوں تو اتنا مایوس نہ ہو

    آج برہنہ چشم نہیں اشکوں کی چادر لایا ہوں

    صرف نشاط انگیز فضا میں لہجے کی تہذیب ہوئی

    دیکھ اپنے نوحوں کے علم نغموں کے برابر لایا ہوں

    ساقیؔ یادوں کی فصدوں سے جیتا جیتا خون بہے

    میں رنگوں کی فصلیں کاٹ کے آج اپنے گھر لایا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY