سرخیاں کیوں ڈھونڈھ کر لاؤں فسانے کے لئے

قمر جلالوی

سرخیاں کیوں ڈھونڈھ کر لاؤں فسانے کے لئے

قمر جلالوی

MORE BYقمر جلالوی

    سرخیاں کیوں ڈھونڈھ کر لاؤں فسانے کے لئے

    بس تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لئے

    موجیں ساحل سے ہٹاتی ہیں حبابوں کا ہجوم

    وہ چلے آئے ہیں ساحل پر نہانے کے لئے

    سوچتا ہوں اب کہیں بجلی گری تو کیوں گری

    تنکے لایا تھا کہاں سے آشیانے کے لئے

    چھوڑ کر بستی یہ دیوانے کہاں سے آ گئے

    دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لئے

    ہنس کے کہتے ہو زمانہ بھر مجھی پر جان دے

    رہ گئے ہو کیا تمہیں سارے زمانے کے لئے

    شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام

    گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لئے

    کائنات عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں

    وہ ہی آنے کے لئے ہے وہ ہی جانے کے لئے

    اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا

    کیا قمرؔ ہی رہ گیا ہے غم اٹھانے کے لئے

    مأخذ :
    • کتاب : Auj-Qamar (Pg. 66)
    • Author : Ustad Sayed Mohd. Hussain Qamar Jalalvi
    • مطبع : Shaikh Shokat Ali And Sons (1952)
    • اشاعت : 1952

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY