سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

آغا حشر کاشمیری

سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

آغا حشر کاشمیری

MORE BYآغا حشر کاشمیری

    سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    وہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی

    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    یہ بجا کلی نے کھل کر کیا گلستاں معطر

    اگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی

    یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے

    مرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی

    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک

    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    مآخذ:

    • کتاب : Junoon (Pg. 99)
    • Author : Naseem Muqri
    • مطبع : Naseem Muqri (1990)
    • اشاعت : 1990

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY