سورج کی کرن کا شعبدہ ہے

قیوم نظر

سورج کی کرن کا شعبدہ ہے

قیوم نظر

MORE BY قیوم نظر

    سورج کی کرن کا شعبدہ ہے

    رنگ رخ زرد اڑ گیا ہے

    نقش کف پا نے گل کھلائے

    ویراں کہاں اب یہ راستہ ہے

    جاگ اٹھی ہیں زندگی کی راہیں

    شاید کوئی چاند کو گیا ہے

    شعلوں سے ہوا تھا باغ خالی

    پھر سینۂ گل بھڑک اٹھا ہے

    پتے پتے کا رنگ بدلا

    بدلی بدلی ہوئی فضا ہے

    پہلے تو نہ یوں کبھی ہوا تھا

    تو بھی مجھے دیکھ کر ہنسا ہے

    بے گانگی نے یہ راز کھولا

    تو میرا ازل سے آشنا ہے

    شبنم سر نوک خار یعنی

    لب پہ مرے حرف مدعا ہے

    ہر درد نہیں دوا کا محتاج

    یوں بھی تو علاج غم ہوا ہے

    تیرا ہی رہے گا بول بالا

    دل میرا عبث دھڑک رہا ہے

    مآخذ:

    • Book : Range-e-Gazal (Pg. 308)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY