تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

مومن خاں مومن

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

    ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

    اور ہی رنگ آج ہے عارض گل عذار کا

    خون دل اپنا تھا مگر گو نہ رخ طراز میں

    کیونکہ نہ آدھی آدھی رات جاگے وہ جس کا دھیان ہو

    آہوئے نیم خواب میں نرگس نیم باز میں

    خسرو عیش وصل یار جاں کنی اور کوہ کن

    اپنا جگر تو خوں ہوا عشق کے امتیاز میں

    بن ترے بزم صور میں ہیں یہ قباحتیں کہ ہے

    نغمۂ صور کا اثر نغمۂ نے نواز میں

    ان سے اب التفات کی غیر کو ہیں شکایتیں

    سن کے مرا مبالغہ منت احتراز میں

    کیا سبھی سینے جل چکے کیا سبھی دل پگھل چکے

    بوئے کباب اب نہیں آہ جگر گداز میں

    پردہ نشیں کے عشق میں پردہ دری نہ ہو کہیں

    ہوتی ہیں بے حجابیاں جان نہفتہ راز میں

    رخنۂ در سے غیر پاس دیکھا کسے کہ آج ہے

    رخنہ گری کچھ اور ہی نالۂ رخنہ ساز میں

    یاد بتاں میں لاکھ بار فرط قلق سے ہم بھی تو

    بیٹھے اٹھے ہیں مومنؔ آپ گر رہے شب نماز میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY