تعلقات کی گرمی نہ اعتبار کی دھوپ

علی عباس امید

تعلقات کی گرمی نہ اعتبار کی دھوپ

علی عباس امید

MORE BYعلی عباس امید

    تعلقات کی گرمی نہ اعتبار کی دھوپ

    جھلس رہی ہے زمانے کو انتشار کی دھوپ

    غم حیات کے سائے مہیب ہیں ورنہ

    کسے پسند نہیں ہے خیال یار کی دھوپ

    ابھی سے امن کی ٹھنڈک تلاش کرتے ہو

    ابھی تو چمکی ہے یارو صلیب و دار کی دھوپ

    الم کی راہ گزر پر بہت ہی کام آئیں

    تمہاری یاد کی شمعیں ہمارے پیار کی دھوپ

    کمند ڈال دیں سورج پہ آؤ مل جل کر

    اب اور تیز نہ ہونے دیں روزگار کی دھوپ

    لبوں پہ مہر جگر خوں چکاں نظر حیراں

    اب اور کیسے جلائے گی یہ بہار کی دھوپ

    تمہارے شہر کی شیدا بدست یادوں کو

    تلاش کرتی رہی دل کے کوہسار کی دھوپ

    بہت قریب ہیں سائے حیات نو کے امیدؔ

    بہت ہی جلد ڈھلے گی اب انتظار کی دھوپ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY