تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتے

سلیم کوثر

تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتے

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتے

    ہم چاند اٹھائے ہوئے پانی سے نکلتے

    خاموش سہی مرکزی کردار تو ہم تھے

    پھر کیسے بھلا تیری کہانی سے نکلتے

    مہلت ہی نہ دی گردش افلاک نے ہم کو

    کیا سلسلۂ نقل مکانی سے نکلتے

    اک عمر لگی تیری کشادہ نظری میں

    اس تنگئ داماں کو گرانی سے نکلتے

    بس ایک ہی موسم کا تسلسل ہے یہ دنیا

    کیا ہجر زدہ خواب جوانی سے نکلتے

    وہ وقت بھی گزرا ہے کہ دیکھا نہیں تم نے

    صحراؤں کو دریا کی روانی سے نکلتے

    شاید کہ سلیمؔ امن کی صورت نظر آتی

    ہم لوگ اگر شعلہ بیانی سے نکلتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY