تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں
تباہ خود کو اسے لا زوال کرتے ہیں
ہمارے لوگ جنوں میں کمال کرتے ہیں
مگر یہ راز فقط تتلیاں سمجھتی ہیں
چمکتے رنگ بھی جینا محال کرتے ہیں
کبھی کبھی تو درندوں پہ پیار آتا ہے
تمام شہر کی یوں دیکھ بھال کرتے ہیں
یہ کیا کہ دل بھی دکھانے کوئی نہیں آتا
چلو پرانے مراسم بحال کرتے ہیں
بلاؤ خواب نگر میں پھر اس ستارے کو
وہی کرو جو سبھی خوش خیال کرتے ہیں
کسی مذاق پہ کھل کر میں ہنس نہیں پاتا
ہنسی ہنسی میں وہ جینا محال کرتے ہیں
Aakhiri Ishq Sabse Pahle Kiya
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.