تبدیلیاں ہیں عمر کے جانے کے ساتھ ساتھ

صفدر ہمدانی

تبدیلیاں ہیں عمر کے جانے کے ساتھ ساتھ

صفدر ہمدانی

MORE BYصفدر ہمدانی

    تبدیلیاں ہیں عمر کے جانے کے ساتھ ساتھ

    ناراضگی بڑھی ہے منانے کے ساتھ ساتھ

    نفرت منافقت سے رہی مجھ کو عمر بھر

    میں چل سکا نہیں ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ

    میری مصیبتیں بھی گوارا نہیں اسے

    مجھ کو رلا رہا ہے ہنسانے کے ساتھ ساتھ

    دل میں سلگ رہی ہیں دعاؤں کی مشعلیں

    لب ہل رہے ہیں ہاتھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ

    اس کی ہر ایک بات تو یکسر نہیں غلط

    ہیں کچھ حقیقتیں بھی بہانے کے ساتھ ساتھ

    میں آشنا ہوں اس کے مزاج و خیال سے

    یاد آؤں گا اسے میں بھلانے کے ساتھ ساتھ

    صفدرؔ عجیب لگتی ہے بستی بسی ہوئی

    آتش فشاں کے سرخ دہانے کے ساتھ ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY