طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنا

نبیل احمد نبیل

طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنا

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    طے ہوا ہے اس طرف کی رہ گزر کا جاگنا

    میرے پاؤں میں کسی لمبے سفر کا جاگنا

    بولتے تھے کیا پرندے سے در و دیوار پر

    یاد ہے اب بھی مجھے وہ اپنے گھر کا جاگنا

    اب کہاں موسم ہے وہ دار و رسن کا دوستو

    اب کہاں عشاق کے شانوں پہ سر کا جاگنا

    ورنہ مجھ کو دھوپ کا صحرا کبھی نہ چھوڑتا

    آ گیا ہے کام میرے اک شجر کا جاگنا

    اک پرانی آرزو ٹھہری اجالوں کی طلب

    اک پرانا خواب ٹھہرا ہے سحر کا جاگنا

    آسماں کھلتے گئے مجھ پر زمینوں کی طرح

    ایک لمحے کے لیے تھا بال و پر کا جاگنا

    میں نبیلؔ اس خوف سے اک عمر سویا ہی نہیں

    زندگی بھر کا ہے سونا لمحہ بھر کا جاگنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY