تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھی

عروج زیدی بدایونی

تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھی

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھی

    یوں بھی ہوئی ہے پرسش پنہاں کبھی کبھی

    معراج دید جلوۂ جاناں کبھی کبھی

    ہم بھی رہے ہیں نازش دوراں کبھی کبھی

    یہ اور بات ربط مسلسل نہ کہہ سکیں

    چوما ہے ہم نے دامن جاناں کبھی کبھی

    نقش خیال آپ کی تصویر بن گیا

    یہ معجزہ ہوا ہے نمایاں کبھی کبھی

    بندہ نوازئ کرم گاہ گاہ سے

    ہم بھی تھے کائنات بداماں کبھی کبھی

    لغزش کی بات ورثۂ آدم کی بات ہے

    کھاتا ہے ٹھوکریں دل انساں کبھی کبھی

    کروٹ بدل گئی ہے تری وضع التفات

    دیکھا ہے یہ بھی خواب پریشاں کبھی کبھی

    یہ سرکشی کے نام سے منسوب ہی سہی

    ہوتا ہے دل بھی سر بہ گریباں کبھی کبھی

    اکثر نشاط سیر گلستان بے خزاں

    اندازۂ فریب بہاراں کبھی کبھی

    میرے لبوں پہ موج تبسم کے باوجود

    غم ہو گیا ہے رخ سے نمایاں کبھی کبھی

    کہنا پڑا ہے جلوۂ صد رنگ روکئے

    نظریں ہوئی ہیں اتنی پریشاں کبھی کبھی

    خود اپنے آس پاس اندھیروں کو دیکھ کر

    گھبرا اٹھی ہے صبح بہاراں کبھی کبھی

    دامن بچا کے ہم تو گزر جائیں اے عروجؔ

    خود چھیڑتی ہے گردش دوراں کبھی کبھی

    مآخذ :
    • کتاب : Lahje ke Chiraag (Pg. 63)
    • Author : Urooj Zaidi
    • مطبع : Irfan Zaidi, Rampur (1989)
    • اشاعت : 1989

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY